اوپن مارکیٹ آپریشنز مرکزی بینک کی بانڈز خریدوفروخت ہیں۔
OMO کی تعریف اور طریقہ کار
اوپن مارکیٹ آپریشنز یعنی OMO وہ عمل ہے جس میں کوئی مرکزی بینک ثانوی مارکیٹ میں حکومتی بانڈز اور سرکاری سیکیورٹیز خریدتا یا بیچتا ہے تاکہ بینکنگ سسٹم میں ذخائر اور شرح سود کی سطح کو کنٹرول کیا جا سکے۔ جب بینک بانڈز خریدتا ہے تو نئی رقم سسٹم میں آتی ہے اور شرح سود کم ہوتی ہے، اور جب بیچتا ہے تو اس کے برعکس اثر ہوتا ہے۔
OMO بمقابلہ QE
روایتی OMO اور کوانٹیٹیٹو ایزنگ میں فرق پیمانے کا ہے۔ روزمرہ OMO شارٹ ٹرم ریپو کے ذریعے ہوتا ہے اور مقدار محدود ہوتی ہے، جبکہ QE ایک غیر معمولی اقدام ہے جو بحران کے دوران بڑے پیمانے پر طویل مدتی بانڈز کی خرید پر مشتمل ہوتا ہے۔ 2020 میں فیڈرل رزرو نے کھربوں ڈالر کی QE کی جس نے ڈالر کو دباؤ میں لایا اور XAU/USD اور EUR/USD دونوں کو اوپر بھیجا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا تناظر
SBP بھی باقاعدگی سے OMO کرتا ہے، مگر روپیہ ایک جزوی طور پر کنٹرول کرنسی ہے، اس لیے اس کا براہ راست عالمی فاریکس پر اثر محدود ہے۔ تاہم پاکستانی ٹریڈر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب کوئی بڑا مرکزی بینک OMO کے ذریعے پالیسی سخت کر رہا ہو تو متعلقہ کرنسی مضبوط ہوتی ہے، اور یہی سمجھ EUR/USD یا GBP/USD پر پوزیشن لینے کی بنیاد بنتی ہے۔
متعلقہ اصطلاحات
زرِ کی رسد
زرِ کی رسد وہ کل رقم ہے جو معیشت میں موجود ہے۔
مرکزی بینک
مرکزی بینک مملکت کی مالیاتی ادارہ ہے جو سود کی شرح اور زرِ کا کنٹرول کرتی ہے۔
کوانٹیٹیٹو ایزنگ
کوانٹیٹیٹو ایزنگ (QE) وہ عمل ہے جب مرکزی بینک مارکیٹ میں اسسیٹ خرید کر نوٹ لگاتا ہے۔
سود کی شرح
سود کی شرd2 وہ فیصد ہے جو مرکزی بینک قرضے پر وصول کرتا ہے اور کرنسی کی قدر پر سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہے۔
کیا آپ لائیو ٹریڈنگ کے لیے تیار ہیں؟
Exness.لچکدار حکمت عملی کے لیے ہمارا انتخاب۔ 1:2000 تک لیوریج، فوری ودڈراول، FCA اور CySEC اور FSCA سے ریگولیٹڈ۔
78.79% ریٹیل CFD اکاؤنٹس اس فراہم کنندہ کے ساتھ ٹریڈنگ میں نقصان اٹھاتے ہیں۔